موٹرسائیکل کو پاکستان میں متوسط طبقے کی سواری سمجھا جاتا ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تو پاکستانی عوام کے ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ آئندہ ماہ پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہو گا اور یہ مہنگائی ان کے بجٹ کو کیسے متاثر کرے گی۔
پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے مختلف کمپنیوں نے بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلیں متعارف کروائیں لیکن ان میں سے اکثر درآمد شدہ تھیں اور وہ مہنگی ہونے کی بنا پر عوام میں مقبول نہ ہو سکیں۔
تاہم اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں دو اداروں نے باہمی اشتراک سے پاکستان میں برقی
موٹرسائیکلوں کی تیاری کا عمل شروع کیا ہے
ان موٹرسائیکلوں کو مارکیٹ میں پہلے سے مقبول جاپانی ڈیزائن کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے یعنی ان کی شکل اور ڈیزائن تو عام موٹرسائیکلوں جیسا ہی ہے، بس پٹرول انجن کی جگہ ان میں الیکٹرک انجن لگایا گیا ہے۔
یار کردہ الیکٹرک بائیک کی رینج 70 کلومیٹر تک ہے اور اسے گھر یا دفتر میں پانچ گھنٹے میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس موٹرسائیکل کی قیمت فی الحال 88 ہزار روپے رکھی گئی ہے تاہم اسے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پٹرول بائیک بھی الیکٹرک بائیک بن سکتی ہے؟
کسی نے اپنی بائیک میں (الیکٹرک) کٹ فِٹ کرانی ہے تو ہمارے پاس اس کا بھی حل موجود ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے جو الیکٹرک کٹ تیار کی وہ پاکستانی بازار میں موجود جاپانی ڈیزائن والی موٹر سائیکل کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے اس لیے عام موٹرسائیکل میں بھی اس کی تنصیب ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے خواہشمند افراد قسطوں پر بھی اپنی موجودہ پٹرول سے چلنے والی موٹرسائیکل کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
’اگر آپ اپنی موٹرسائیکل میں الیکٹرک کٹ لگوانا چاہتے ہیں تو اس کی ماہانہ قسط 5500 روپے ہو گی جو ایک سال تک چلے گی
’گرین ٹیکنالوجی انفرادی بچت اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک تو اس میں دھواں نہیں ہے، آلودگی اس میں ہے ہی نہیں اور دوسرا شور بھی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عام (پٹرول بائیک) اگر 50 کلومیٹر ایوریج دیتی ہے تو اس کا ماہانہ خرچہ تقریباً چار ہزار آئے گا لیکن الیکٹرک بائیک کا خرچہ صرف 500 روپے آئے گا۔‘

No comments:
Post a Comment